تیرے درد ہجر میں مرتا ہے یہ بیمار آج
تیرے درد ہجر میں مرتا ہے یہ بیمار آج
یا نبی اس کو دکھاؤ آخری دیدار آج
کر دوں برسوں کی جدائی کا بیاں اظہار آج
مجھ کو مل جاؤ اگر اے محرم اسرار آج
کل تھا بیکل یہ دل مضطر نبی کے عشق میں
جوش زن ہے دل میں حب احمد مختار آج
خواب میں آ جاؤ تم اے یوسف ثانی نظر
گر کریں امداد میرے طالع بیدار آج
ہوگا فرد ائے قیامت منفعل پیش خدا
جو کوئی تیری نبوت سے کرے انکار آج
وقت فرصت یار تھے اغیار بھی اپنے مدام
یا نبی غم میں نہیں اپنا کوئی غمخوار آج
چہرہ دکھلاؤ کہ ہیں حضرت تمہارے ہجر میں
دیدۂ نادیدۂ دیدار گوہر بار آج
کار رکھتے ہی نہیں ہم غیر سے اے مہرباں
ایک تیری مہربانی ہے ہمیں درکار آج
ابر سے ہمسر ہے اپنی چشم گریاں ان دنوں
برق پر غالب ہے اپنی آہ آتشبار آج
کس کو ہے امید جاناں کل کو کیا ہو جائے گا
ہے اگر آنا تو آؤ یا شہِ ابرار آج
خیر گر پالے تمہارے در سے اے خیرالوریٰ
شاہ بن جائےگا بے شک سرورِؔ نادار آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.