Font by Mehr Nastaliq Web

تیرے درد ہجر میں مرتا ہے یہ بیمار آج

غلام سرور لاہوری

تیرے درد ہجر میں مرتا ہے یہ بیمار آج

غلام سرور لاہوری

MORE BYغلام سرور لاہوری

    تیرے درد ہجر میں مرتا ہے یہ بیمار آج

    یا نبی اس کو دکھاؤ آخری دیدار آج

    کر دوں برسوں کی جدائی کا بیاں اظہار آج

    مجھ کو مل جاؤ اگر اے محرم اسرار آج

    کل تھا بیکل یہ دل مضطر نبی کے عشق میں

    جوش زن ہے دل میں حب احمد مختار آج

    خواب میں آ جاؤ تم اے یوسف ثانی نظر

    گر کریں امداد میرے طالع بیدار آج

    ہوگا فرد ائے قیامت منفعل پیش خدا

    جو کوئی تیری نبوت سے کرے انکار آج

    وقت فرصت یار تھے اغیار بھی اپنے مدام

    یا نبی غم میں نہیں اپنا کوئی غمخوار آج

    چہرہ دکھلاؤ کہ ہیں حضرت تمہارے ہجر میں

    دیدۂ نادیدۂ دیدار گوہر بار آج

    کار رکھتے ہی نہیں ہم غیر سے اے مہرباں

    ایک تیری مہربانی ہے ہمیں درکار آج

    ابر سے ہمسر ہے اپنی چشم گریاں ان دنوں

    برق پر غالب ہے اپنی آہ آتشبار آج

    کس کو ہے امید جاناں کل کو کیا ہو جائے گا

    ہے اگر آنا تو آؤ یا شہِ ابرار آج

    خیر گر پالے تمہارے در سے اے خیرالوریٰ

    شاہ بن جائےگا بے شک سرورِؔ نادار آج

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے