ہے کیا صل علیٰ شان محمد
ہے کیا صل علیٰ شان محمد
مناسب بلکہ شایانِ محمد
میرا سر رشتۂ دل بندھ گیا ہے
بتارِ زلف پیچانِ محمد
ملا ہے عرش کو بھی جس سے پایہ
بلند اتنا ہے ایوان محمد
پھلے پھولے ہمیشہ یا الٰہی
علی کا باغ بستان محمد
خزانہ مفت بخشا معرفت کا
یہ ہے امت پہ احسان محمد
بھروسا غیر کا اب ہم نے چھوڑا
بگڑ بیٹھے ہیں دامان محمد
بہت امت کی خاطر ہوچکے ہیں
خدا سے عہد و پیمانِ محمد
بیاں ہوتا نہیں میری زباں سے
خدا کا لطف احسانِ محمد
رہا کرتے ہیں ہر دم مست و مدہوش
مئے وحدت سے مستانِ محمد
فرشتے جن و انساں حور و غلماں
سبھی ہیں زیر فرمانِ محمد
ہیں بو بکر و عمر عثمان و حیدر
خدا کے دوست یاران محمد
وہی تھے گھر میں مالک سارے گھر کے
وہی تھے در پہ دربان محمد
وہی چاروں تھے حضرت کے خلیفہ
وہی تھے جانشینان محمد
وہی تھے خانہ دار خانۂ دیں
وہی تھے چار ارکان محمد
وہی تھے پہلوان دین و دنیا
وہی تھے شیر میدانِ محمد
وہ تھے حضرت کے پروانے ہمیشہ
وہ تھے شمع شبستانِ محمد
نبی کے باغ کے وہ تازہ گل تھے
وہ تھے سروِ گلستان محمد
وفا سب نے کیا حضرت سے اقرار
نباہا عہد و پیمان محمد
غلام سرورِ عالم ہےسرورؔ
ثنا خوان غلامان محمد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.