Font by Mehr Nastaliq Web

صبا مدینہ میں گر تو جائے تو سر نگوں سوئے آستاں کر

غلام سرور لاہوری

صبا مدینہ میں گر تو جائے تو سر نگوں سوئے آستاں کر

غلام سرور لاہوری

MORE BYغلام سرور لاہوری

    صبا مدینہ میں گر تو جائے تو سر نگوں سوئے آستاں کر

    کہیں جو فرصت سخن کی پائے تو میری حالت کو تو بیاں کر

    بپائے تسلیم سر جھکا لے دو دستہ دست دعا اٹھا لے

    مرے لبوں کو تو لب بنا لے زباں کو اپنی مری زباں کر

    جھکا کے سر کو پکڑ کے زانو بہا کے درد و الم کے آنسو

    ہزار عجز و نیاز سے تو بیاں مرے دل کی داستاں کر

    بزاری دامن دراز کرکے بہت ساعجز و نیاز کر کے

    عیاں محبت کا راز کر کے سرشک حسرت کے تو رواں کر

    کہو کہ اے سرورِ دوعالم خدا کے محبوب شاہ اکرم

    میں ہوں گرفتار محنت و غم چھڑا کے اس غم سے شادماں کر

    مجھے مدینہ میں تم بلا لو جگر سے بار الم اٹھا لو

    غموں کے پنجہ سے تم چھڑا لو نہ رکھو فرقت میں نیم جاں کر

    تمہارے روضہ پہ گر میں جاؤں دوبارہ حق سے حیات پاؤں

    جو دل کی حالت ہے سب سناؤں تمہارے آگے فغاں فغاں کر

    تری جدائی میں میرے مولیٰ بہت ہی ابتر ہے حال اپنا

    سدا بہاتا ہوں سیل دریا دو آنکھیں اپنی گہر فشاں کر

    عرب کے حضرت ہو آپ والیِ عجم کے بستاں کے تم ہو مالی

    تمہارے در سے گیا نہ خالی جو آیا سائل ہو آستاں کر

    خدا کا بندہ ہے گر تو سرورؔ نہ رکھ محبت کسی کے دل پر

    مدینے جا کر بحالِ مضطر فدا محمد پہ اپنی جاں کر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے