صبا مدینہ میں گر تو جائے تو سر نگوں سوئے آستاں کر
صبا مدینہ میں گر تو جائے تو سر نگوں سوئے آستاں کر
کہیں جو فرصت سخن کی پائے تو میری حالت کو تو بیاں کر
بپائے تسلیم سر جھکا لے دو دستہ دست دعا اٹھا لے
مرے لبوں کو تو لب بنا لے زباں کو اپنی مری زباں کر
جھکا کے سر کو پکڑ کے زانو بہا کے درد و الم کے آنسو
ہزار عجز و نیاز سے تو بیاں مرے دل کی داستاں کر
بزاری دامن دراز کرکے بہت ساعجز و نیاز کر کے
عیاں محبت کا راز کر کے سرشک حسرت کے تو رواں کر
کہو کہ اے سرورِ دوعالم خدا کے محبوب شاہ اکرم
میں ہوں گرفتار محنت و غم چھڑا کے اس غم سے شادماں کر
مجھے مدینہ میں تم بلا لو جگر سے بار الم اٹھا لو
غموں کے پنجہ سے تم چھڑا لو نہ رکھو فرقت میں نیم جاں کر
تمہارے روضہ پہ گر میں جاؤں دوبارہ حق سے حیات پاؤں
جو دل کی حالت ہے سب سناؤں تمہارے آگے فغاں فغاں کر
تری جدائی میں میرے مولیٰ بہت ہی ابتر ہے حال اپنا
سدا بہاتا ہوں سیل دریا دو آنکھیں اپنی گہر فشاں کر
عرب کے حضرت ہو آپ والیِ عجم کے بستاں کے تم ہو مالی
تمہارے در سے گیا نہ خالی جو آیا سائل ہو آستاں کر
خدا کا بندہ ہے گر تو سرورؔ نہ رکھ محبت کسی کے دل پر
مدینے جا کر بحالِ مضطر فدا محمد پہ اپنی جاں کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.