محمد رہنمائے انس و جاں ہے
محمد رہنمائے انس و جاں ہے
رسولِ کبریائے دوجہاں ہے
وہ محبوبِ جنابِ کبریا ہے
شفیع المذنبیں روز جزا ہے
زہے رکنِ رکینِ دیں پناہی
کلید ِمخزنِ سر الٰہی
لقب ہے سیدِ کونین ذیشاں
خدا قرآں میں ہے اس کا ثنا خواں
جہاں میں زینت آدم ہے اس سے
بنا ہے دین حق محکم ہی اس سے
اسی کا پاسِ خاطر تھا خدا کو
کیا پیدا جو اس ارض و سما کو
شبِ معراج وہ حکمِ خدا سے
ہوا عازم تو پھر گزرا سما سے
ہوا قربان اس پر چرخِ ہفتم
کئے جس نے تصدق نقد و انجم
ہوا جب قرب اس کو کبریا سے
ہوا فائق تمامی انبیا سے
نبی ایسا کوئی دنیا میں پیدا
نہ تھا آگے نہ اب ہے اور نہ ہوگا
نہیں توصیف کا ہے مجھ کو یارا
کروں اب عرض مطلب آشکارا
دعا میری یہ اے شاہِ امم ہے
مجھے بھی تجھ سے امیدِ کرم ہے
مجھے درکار ہے اب رہنمائی
کر اب میری بھی کچھ عقدہ کشائی
کہ لطفِ عام تیرا مجھ پہ اب ہو
جو ہے مقصد میرا حاصل وہ سب ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.