ہر سمت رونما ہوا جلوہ رسول کا
ہر سمت رونما ہوا جلوہ رسول کا
کیوں کر نہ ہر زباں پہ ہو چرچا رسول کا
حق بیں نظر سے دیکھیے جلوا رسول کا
صد رشکِ کہکشاں ہے سراپا رسول کا
خود حق کرے گا راہِ صداقت میں رہبری
ہر حق پر ست سے ہے یہ و عدا رسول کا
ہم کو عدو سے خوف ہے نہ گردشوں سے ڈر
جب تک ہمارے سرپہ ہے سایا رسول کا
کیوں وجد آفریں نہ ہو احساسِ زندگی
گونجا ہے سازِ روح پہ نغمہ رسول کا
ہے آرزو یہی کہ دمِ مرگ اے شفقؔ
آنکھوں کے سامنے رہے جلوا رسول کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.