کوئی پیتا مبریا جامۂ احرام میں آئے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
کوئی پیتا مبریا جامۂ احرام میں آئے
محمد کی گلی یا کوچۂ گھنشام میں آئے
خدا شاہد کہ سر جھکتا ہے اہلِ دل کے قدموں پر
مئے صافی سے مطلب ہے کسی بھی جام میں آئے
نیاز آگیں جبیں لے کر جو بزمِ ناز میں آئے
نہ کیوں پھر وہ شمار اہلِ سوز و ساز میں آئے
تصوف کی نگاہیں تو اسے پہچان ہی لیں گی
کسی بھی بھیس میں آئے کسی انداز میں آئے
مبارک اس کا جینا جو تری سرکار میں آئے
صفائے قلب لے کر صدق سے دربار میں آئے
نگاہِ اہلِ عالم میں جو عزت ہو تو کیا عزت
وہ قسمت کا دھنی ہے جو نگاہِ یار میں آئے
مقام ان کا بھی اونچا ہے جو تیری راہ میں آئے
اور ان کی بات ہی کیا جو تری درگاہ میں آئے
عبادت اور سجدوں کی بھی عزت دل میں ہے لیکن
عبادت وہ عبادت ہے مزا جب آہ میں آئے
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 23)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.