نبی تک جس نے پہنچایا وہ تھی دیوانگی اپنی
نبی تک جس نے پہنچایا وہ تھی دیوانگی اپنی
نبی ہی جانتے ہیں دوستو بے چارگی اپنی
لبوں پر روز و شب نامِ نبی نامِ محمد ہے
عبادت ہے یہی اپنی یہی ہے بندگی اپنی
پلٹ کر آنے والوں کو جو دیکھا تو ہوئی خواہش
مدینے ہم بھی جاتے اور بجھاتے تشنگی اپنی
اسے دیکھو اسے سمجھو اسے سمجھو اسے پوجو
کہ جس نے صرف کر دی راہ حق میں زندگی اپنی
خطائیں کرتا ہوں توبہ بھی کرتا ہوں خطاؤں سے
سبب ان کے کرم کا ہوگی گلشنؔ سادگی اپنی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.