آنے کو تو سنسار میں آئے ہیں نبی اور
آنے کو تو سنسار میں آئے ہیں نبی اور
آیا ہے نہ آئے گا محمد سا کوئی اور
ہو نامِ نبی لب پہ تصور میں مدینہ
سوچا نہیں کچھ اس کے سوا ہم نے کبھی اور
کیسی ہے عجب چیز یہ صہبائے عقیدت
پیتے رہو اور کہتے رہو اور ابھی اور
میں حشر میں دے دوں گا ثبوت اپنے کہے کا
مجھ سا نہ گنہگار نبی سانہ سخی اور
کچھ بات ہی ایسی ہے فسانے میں نبی کے
جنتا ہی سنا چاہ بھی اتنی ہی بڑھی اور
ہے یوں بھی سکوں بخش مدینے کا تصور
پہنچیں جو مدینے میں تو ہوتی ہے خوشی اور
خالی کوئی پلٹا ہی نہیں در سے نبی کے
ہندو ہو مسلمان ہو سکھ ہو کہ کوئی اور
یاد آتی ہے جب دوری سرکار مدینہ
بڑھ جاتی ہے گلشنؔ میری آنکھوں میں نمی اور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.