Font by Mehr Nastaliq Web

آنے کو تو سنسار میں آئے ہیں نبی اور

گلشن بریلوی

آنے کو تو سنسار میں آئے ہیں نبی اور

گلشن بریلوی

MORE BYگلشن بریلوی

    آنے کو تو سنسار میں آئے ہیں نبی اور

    آیا ہے نہ آئے گا محمد سا کوئی اور

    ہو نامِ نبی لب پہ تصور میں مدینہ

    سوچا نہیں کچھ اس کے سوا ہم نے کبھی اور

    کیسی ہے عجب چیز یہ صہبائے عقیدت

    پیتے رہو اور کہتے رہو اور ابھی اور

    میں حشر میں دے دوں گا ثبوت اپنے کہے کا

    مجھ سا نہ گنہگار نبی سانہ سخی اور

    کچھ بات ہی ایسی ہے فسانے میں نبی کے

    جنتا ہی سنا چاہ بھی اتنی ہی بڑھی اور

    ہے یوں بھی سکوں بخش مدینے کا تصور

    پہنچیں جو مدینے میں تو ہوتی ہے خوشی اور

    خالی کوئی پلٹا ہی نہیں در سے نبی کے

    ہندو ہو مسلمان ہو سکھ ہو کہ کوئی اور

    یاد آتی ہے جب دوری سرکار مدینہ

    بڑھ جاتی ہے گلشنؔ میری آنکھوں میں نمی اور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے