Font by Mehr Nastaliq Web

رب نے بنایا ہے کچھ ایسا رتبہ غوثِ اعظم کا

گلزار اسمعٰیل واسطی

رب نے بنایا ہے کچھ ایسا رتبہ غوثِ اعظم کا

گلزار اسمعٰیل واسطی

MORE BYگلزار اسمعٰیل واسطی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)

    رب نے بنایا ہے کچھ ایسا رتبہ غوثِ اعظم کا

    جن و بشر کے لب پہ سجا ہے خطبہ غوثِ اعظم کا

    جتنے ولی آئے ہیں جہاں میں سب ہیں اہلِ شان مگر

    سب ولیوں کی گردن پر ہے تلوا غوثِ اعظم کا

    ان کی جنت ان کی حکومت رب ان کا تو سب ان کا

    کھاتا ہے یہ سارا زمانہ صدقہ غوثِ اعظم کا

    کرتے ہیں فریاد رسائی اپنی تربتِ انور سے

    دنیا کے جس کونے میں ہو شیدا غوثِ اعظم کا

    قبر میں گر پوچھیں گے فرشتے کیا ہے تیری پہچان بتا

    کہہ دوں گا لایا ہوں دیکھو شجرہ غوثِ اعظم کا

    درد و الم مٹتے ہیں فوراً دل کی کلی کھل جاتی ہے

    خلدِ بریں کی اک کیاری ہے روضہ غوثِ اعظم کا

    نسبت ہو جس کو اس در سے کیوں وہ ڈرے گلزارؔ بھلا

    چیر کے رکھ دے شیرِ ببر کو کتا غوثِ اعظم کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے