پال کے رکھے ہیں سینے میں جو الفت ان کی
پال کے رکھے ہیں سینے میں جو الفت ان کی
ہے خدا ان کا نبی ان کے ہیں جنت ان کی
میں بھی دیکھوں گا مدینے کی وہ دلکش گلیاں
مجھ کو مل جائے جو اک بار حمایت ان کی
ہم پکاریں جو یہاں سے وہ وہاں سنتے ہیں
اللہ اللہ رے کیسی ہے سماعت ان کی
مجھ کو نہلا کے دفن کر دو عزیزو جلدی
قبر میں ہونے ہی والی ہے زیارت ان کی
نارِ دوزخ کا تو غم کرتا ہے کیوں کر گلزارؔ
بخشوا لے گی سرِ حشر شفاعت ان کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.