سرِ محفل کرم اتنا مرے سرکار ہو جائے
سرِ محفل کرم اتنا مرے سرکار ہو جائے
نگاہیں منتظر رہ جائیں اور دیدار ہو جائے
تصور میں تری ہر شئے پہ یوں نظریں جماتا ہوں
نہ جانے کون سی شئے میں ترا دیدار ہو جائے
غلامِ مصطفیٰ بن کر میں بکِ جاؤں مدینے میں
محمد نام پہ سودا سرِ بازار ہو جائے
سنبھل کر پاؤں رکھنا حاجیو شہرِ مدینہ میں
کہیں ایسا نہ ہو سارا سفر بیکار ہو جائے
فنا اتنا تو ہو جاؤں میں تیری ذاتِ عالی میں
جو مجھ کو دیکھ لے اس کو ترا دیدار ہو جائے
تجھے منظور ہے پردہ مجھے پاسِ ادب ورنہ
میں جب چاہوں جہاں چاہوں ترا دیدار ہو جائے
حبیب اس حال سے ابتر بھی حالِ زار ہو جائے
جو ہونا ہو سو ہو جائے مگر دیدار ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.