Font by Mehr Nastaliq Web

ارضِ بطحا میں وہ آفتاب آ گیا

ہادی بدایونی

ارضِ بطحا میں وہ آفتاب آ گیا

ہادی بدایونی

MORE BYہادی بدایونی

    ارضِ بطحا میں وہ آفتاب آ گیا

    ساری دنیا میں اک انقلاب آ گیا

    واقفِ سرِّ مکنون، امی لقب

    ساتھ میں لے کے ام الکتاب آ گیا

    اس گنہگار کے جرم تھے بے شمار

    صاحبِ رحمت بے حساب آ گیا

    گھر سے نکلا تو پتھر نے چومے قدم

    سایہ کرنے کو سر پر سحاب آ گیا

    خوب ہجرت کی شب ایک ہی برج میں

    آفتاب آ گیا ماہتاب آ گیا

    آنسوؤں کی کرامت کہ میں روزِ حشر

    لے کے ہاتھوں میں سادہ کتاب آ گیا

    جب مصیبت میں ہادیؔ پکارا انہیں

    مژدہِ نصرت وفتح یاب آ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے