ارضِ بطحا میں وہ آفتاب آ گیا
ارضِ بطحا میں وہ آفتاب آ گیا
ساری دنیا میں اک انقلاب آ گیا
واقفِ سرِّ مکنون، امی لقب
ساتھ میں لے کے ام الکتاب آ گیا
اس گنہگار کے جرم تھے بے شمار
صاحبِ رحمت بے حساب آ گیا
گھر سے نکلا تو پتھر نے چومے قدم
سایہ کرنے کو سر پر سحاب آ گیا
خوب ہجرت کی شب ایک ہی برج میں
آفتاب آ گیا ماہتاب آ گیا
آنسوؤں کی کرامت کہ میں روزِ حشر
لے کے ہاتھوں میں سادہ کتاب آ گیا
جب مصیبت میں ہادیؔ پکارا انہیں
مژدہِ نصرت وفتح یاب آ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.