Font by Mehr Nastaliq Web

مئے بھی ہے جام بھی ہے جشنِ طرب ہے ساقی

ہادی بدایونی

مئے بھی ہے جام بھی ہے جشنِ طرب ہے ساقی

ہادی بدایونی

MORE BYہادی بدایونی

    مئے بھی ہے جام بھی ہے جشنِ طرب ہے ساقی

    میں رہوں تشنہ دہن یہ تو غضب ہے ساقی

    کتنے مجھ جیسے مئے آشنا پڑے ملتے ہیں

    تیرا فیضانِ کرم رحمتِ رب ہے ساقی

    رند کے لب پہ ہنسی دل میں خوشی آنکھ میں نور

    مائلِ لطف و کرم تو ہے تو سب ہے ساقی

    جب بھی جتنی بھی جہاں چاہوں کسی طرح ملے

    کیف و کم ایں وآں عشق میں کب ہے ساقی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے