مئے بھی ہے جام بھی ہے جشنِ طرب ہے ساقی
مئے بھی ہے جام بھی ہے جشنِ طرب ہے ساقی
میں رہوں تشنہ دہن یہ تو غضب ہے ساقی
کتنے مجھ جیسے مئے آشنا پڑے ملتے ہیں
تیرا فیضانِ کرم رحمتِ رب ہے ساقی
رند کے لب پہ ہنسی دل میں خوشی آنکھ میں نور
مائلِ لطف و کرم تو ہے تو سب ہے ساقی
جب بھی جتنی بھی جہاں چاہوں کسی طرح ملے
کیف و کم ایں وآں عشق میں کب ہے ساقی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.