ہے نشانِ عظمتِ آدم نشانِ بو تراب
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
ہے نشانِ عظمتِ آدم نشانِ بو تراب
سن لبِ ایام سے اعزاز و شانِ بو تراب
بدر و خیبر کی زمیں کا ذرہ ذرہ آج بھی
کہہ رہا ہے چپکے چپکے داستانِ بو تراب
گل عقیدت کے لٹاتے ہی رہیں گے عندلیب
لہلہاتا ہی رہے گا گلستانِ بو تراب
تا ابد جاری رہے گا چشمۂ فیضِ علی
اور پیتے ہی رہیں گے طالبانِ بو تراب
منبعِ فقر و ولایت ہے درِ شیرِ خدا
مرجع شاہ و گدا ہے آستانِ بو تراب
چشمِ گیتی کو وہ منظر بھول سکتا ہی نہیں
جس طرح لوٹا فلک نے کاروانِ بو تراب
جام کوثر سے رہے محروم ہوسکتا نہیں
تائبؔ خوش بخت کہ ہے مدح خوانِ بو تراب
- کتاب : اَصحاَبِی کَاالنُّجُوم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.