دل بے تاب ہر لحظہ مدینہ دیکھنا چاہے
دل بے تاب ہر لحظہ مدینہ دیکھنا چاہے
کھلی آنکھوں سے رحمت کا خزینہ دیکھنا چاہے
ہر اک عاشق تمنائی کہ اس دھرتی کے ماتھے پر
وہ جھومر میں جڑا روشن نگینہ دیکھنا چاہے
درِ اقدس پہ بلواتے ہیں آقا سب غلاموں کو
خلوص دل سے جو کوئی مدینہ دیکھنا چاہے
سگانِ کوچۂ سرکار کا تو ہم نشیں ہو جا
مدینے میں جو رہنے کا قرینہ دیکھنا چاہے
قدم ان کے بنا مسکن نظر آئے گا پھر منظر
تو اس دنیا سے جنت کا جو زینہ دیکھنا چاہے
بھٹکتا پھر رہا ہے بحرِ عصیاں میں جلیلؔ آقا
مدد کیجیے یہ ساحل پر سفینہ دیکھنا چاہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.