زمانے کی نگاہوں سے چھپاکر اُن کی یادوں کو
زمانے کی نگاہوں سے چھپاکر ان کی یادوں کو
دلِ مضطر میں رکھتا ہوں سجا کر ان کی یادوں کو
تعلق توڑ کر ان سے عبث دعویٰ ہے ایماں کا
کوئی مؤمن نہیں رہتا بھلا کر ان کی یادوں کو
نکلنا ہے اگر تم کو غمِ دنیا کے طوفان سے
چلو رہ میں سہارا پھر بنا کر ان کی یادوں کو
بہاروں کا سماں ہوگا تمہارے من کی وادی میں
ذرا دیکھو توسینے میں بسا کر ان کی یادوں کو
جلیلؔ آخر رہائی منحصر ہے ان کے عرفاں پر
سو اپنے دل میں رکھ لینا سجا کر ان کی یادوں کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.