رہتا ہوں تصور میں میں دن رات مسلسل
رہتا ہوں تصور میں میں دن رات مسلسل
ملتی ہے مدینے سے یہ خیرات مسلسل
آفاق میں ہوتا ہے درودوں کا وظیفہ
جاتی ہے غلاموں کی یہ سوغات مسلسل
ہر لحظہ رہے وردِ زباں اسمِ محمد
رہتے ہیں تلاطم میں یہ جذبات مسلسل
رہتا ہوں تخیل میں شب و روز مدینہ
ملتے ہیں مجھے قرب کے لمحات مسلسل
الفقر کو فخری جو کہا شاہ نے دیکھو
رہتی ہیں فقیروں پہ عنایات مسلسل
ہے آپ کی سنت سے بغاوت کا نتیجہ
گھیرے ہوئے امت کو ہیں خطرات مسلسل
دیکھا ہے سدا ہم نے درِ پاک پہ جا کر
اللہ کی رحمت کی ہے برسات مسلسل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.