Font by Mehr Nastaliq Web

رہتا ہوں تصور میں میں دن رات مسلسل

حافظ عبدالجلیل

رہتا ہوں تصور میں میں دن رات مسلسل

حافظ عبدالجلیل

MORE BYحافظ عبدالجلیل

    رہتا ہوں تصور میں میں دن رات مسلسل

    ملتی ہے مدینے سے یہ خیرات مسلسل

    آفاق میں ہوتا ہے درودوں کا وظیفہ

    جاتی ہے غلاموں کی یہ سوغات مسلسل

    ہر لحظہ رہے وردِ زباں اسمِ محمد

    رہتے ہیں تلاطم میں یہ جذبات مسلسل

    رہتا ہوں تخیل میں شب و روز مدینہ

    ملتے ہیں مجھے قرب کے لمحات مسلسل

    الفقر کو فخری جو کہا شاہ نے دیکھو

    رہتی ہیں فقیروں پہ عنایات مسلسل

    ہے آپ کی سنت سے بغاوت کا نتیجہ

    گھیرے ہوئے امت کو ہیں خطرات مسلسل

    دیکھا ہے سدا ہم نے درِ پاک پہ جا کر

    اللہ کی رحمت کی ہے برسات مسلسل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے