اُدھر دونوں عالم کے والی کا در ہو
اُدھر دونوں عالم کے والی کا در ہو
اِدھر اس گنہگار عاصی کا سر ہو
وہ جب مجھ سے پوچھیں بتا کوئی خواہش
مرا ہاتھ بس ان کی نعلین پر ہو
گھٹا ظلمتوں کی ہے چھائی جہاں پر
شبِ تار بیتے ہویدا سحر ہو
پہنچ جائوں اک بار میں ان کے در پر
تو پھر زندگانی وہیں پر بسر ہو
مرا کملی والا رسولوں میں ایسے
کہ تاروں کے جھرمٹ میں جیسے قمر ہو
جلیلؔ ان کے در کی ملے جو گدائی
تو پھر بادشاہی پہ کس کی نظر ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.