دولت تھی مرے پاس نہ مایہ مرے گھر میں
دولت تھی مرے پاس نہ مایہ مرے گھر میں
آقا نے بلایا ہے مجھے اپنے نگر میں
ہے اسمِ محمد کے اجالوں کا تصدق
رہتا ہے ہمیشہ ہی اجالا مرے گھر میں
کچھ ہار درودوں کے تو کچھ اشکِ ندامت
کیا خوب اثاثہ ہے مرے زادِ سفر میں
ہے عرشِ معلیٰ سے بھی آگے تری منزل
یہ چاند ستارے ہیں تری گرد سفر میں
اپنا تو وظیفہ ہے ترے نام کی مالا
رہتا ہے زباں پر یہ مری شام و سحر میں
رہتی ہے جلیلؔ اب یہ دعا میرے لبوں پر
یہ عمر گزر جائے مدینے کے سفر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.