مدینے کو جاؤں مری جستجو ہے
مدینے کو جاؤں مری جستجو ہے
پلٹ کر نہ آئوں یہی آرزو ہے
مدینے کے والی ترا نام نامی
مرا کل اثاثہ مری آبرو ہے
تو خواہش سے اپنی کہاں بولتا ہے
کلامِ الٰہی تری گفتگو ہے
سنوارا نظر نے تری جس کو مولیٰ
کہاں اس سے بڑھ کر کوئی خوبرو ہے
جلیلؔ ان کے دامن سے جو بھی جڑا ہے
وہی کامراں ہے وہی سرخرو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.