کریم تیرے کرم کا چرچا نگر نگر ہے گلی گلی ہے
کریم تیرے کرم کا چرچا نگر نگر ہے گلی گلی ہے
ہے اپنا دامن عمل سے خالی ترے کرم پر نظر لگی ہے
جو تیرے در کی ملے غلامی زمانے بھر کی ہے نیک نامی
یہی عبادت ہے در حقیقت یہی حقیقت میں بندگی ہے
نہ ملتا مجھ کو ترا گھرانا تو کون سنتا مِرا فسانہ
رہے سلامت تمہاری نسبت مرا تو بس آسرا یہی ہے
جلیلؔ اپنا تو ہے عقیدہ جو ان کے در پہ ہے سر خمیدہ
وہی تو ہے بس خدا رسیدہ اسی کی جھولی بھری ہوئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.