Font by Mehr Nastaliq Web

ذکرِ صلِ علیٰ ہے زباں پر کیسی خوشبو فضا میں رچی ہے

حافظ عبدالجلیل

ذکرِ صلِ علیٰ ہے زباں پر کیسی خوشبو فضا میں رچی ہے

حافظ عبدالجلیل

MORE BYحافظ عبدالجلیل

    ذکرِ صلِ علیٰ ہے زباں پر کیسی خوشبو فضا میں رچی ہے

    سارا ماحول نکھرا ہوا ہے اور ہواؤں میں بھی تازگی ہے

    اتنا میٹھا ہے اسمِ محمد اس کی شیرینی کیوں کر بیاں ہو

    ہونٹ لیتے ہیں آپس میں بوسے اس قدر نام میں چاشنی ہے

    تھا زمانے میں ظلمت کا ڈیرا آپ آئے تو پھوٹا سویرا

    چہرۂ دلربا کے تصدق سارے عالم میں یہ روشنی ہے

    لب پہ نغمے ہوں نعتِ نبی کے ہاتھ میں دامنِ مصطفیٰ ہو

    کوئی پوچھے کوئی اور خواہش میں کہوں بس یہی آخری ہے

    میرے سرکار قدرت نے تجھ کو ہے سراجاً منیرا بنایا

    نور ہی نور ہے اس فضامیں جس جگہ تیری جلوہ گری ہے

    اب تو مجھ کو مدینے بلا لو، اپنے پیاسے کو جلوہ دکھادو

    تیرے درشن سے ہی بجھ سکے گی میری آنکھوں میں جو تشنگی ہے

    یہ جلیلؔ آکے در پر کھڑا ہے اور ہونٹوں پہ یہ التجا ہے

    آپ اپنی غلامی میں لے لیں، بس یہی حاصلِ زندگی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے