چشمِ بے چین کا چین دل کا سکوں روحِ انساں کی لذت مدینے میں ہے
چشمِ بے چین کا چین دل کا سکوں روحِ انساں کی لذت مدینے میں ہے
حافظ عبدالجلیل
MORE BYحافظ عبدالجلیل
چشمِ بے چین کا چین دل کا سکوں روحِ انساں کی لذت مدینے میں ہے
جاہ و منصب کا ہونا بڑی شے سہی پر مسلماں کی عزت مدینے میں ہے
ہر مسلمان جویائے ایمان ہے کیوں کہ ایمان ہی اس کی پہچان ہے
ہاں مگر یہ حقیقت ہے ایمان کی روح پرور حلاوت مدینے میں ہے
ہے کسی کی تمنا کہ دولت ملے اور کسی کی ہے خواہش کہ جنت ملے
مؤمنوں کی ہے دولت درِ مصطفیٰ اہلِ ایماں کی جنت مدینے میں ہے
عشق سرکار میں جو بھی سرشار ہے اس کی منزل فقط ان کا دیدار ہے
اس کے غم کا نہیں ہے مداوا کوئی اس پریشاں کی راحت مدینے میں ہے
مانگنے کا سلیقہ اگر پاس ہو اور طلب میں ذرا سا بھی اخلاص ہو
اپنے دامن کو جاکر پسارو وہیں ساری دنیا کی ثروت مدینے میں ہے
اے جلیلؔ ان کے در کی گدائی ملے اس سے بڑھ کر تو کوئی بھی منصب نہیں
میرے دل کی تمنا یہی ہے فقط میرے ایماں کی چاہت مدینے میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.