کرم ہے آپ کا آقا مدینے ہم بھی آئے ہیں
کرم ہے آپ کا آقا مدینے ہم بھی آئے ہیں
پلا دیں جام الفت کا کہ پینے ہم بھی آئے ہیں
بجھا دے پیاس جو ترسی ہوئی بے تاب نظروں کی
وہی ساغر محبت کا تو پینے ہم بھی آئے ہیں
خدا کی نعمتوں کے آپ قاسم ہیں مرے مولیٰ
یہاں بٹتے ہیں رحمت کے خزینے ہم بھی آئے ہیں
سگِ در کی غلامی کا شرف ہم کو عطا کیجے
اسی سے سیکھنے کچھ تو قرینے ہم بھی آئے ہیں
تِرے در سے جو دوری ہو تو کیا رکھا ہے جینے میں
کہ جینا ہے مدینے کا سو جینے ہم بھی آئے ہیں
جلیلؔ اپنا تو ایماں ہے یہیں ہوگی نجات اپنی
اٹھا کر بار عصیاں کا مدینے ہم بھی آئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.