خواہش دیدار ہے مدت سے میرے نین کو
خواہش دیدار ہے مدت سے میرے نین کو
اک جھلک مل جائے تو راحت ملے بے چین کو
کاش مجھ کو بھی عطا ہو ان کے در کی نوکری
جن کے اسمِ پاک کا صدقہ ملا دارین کو
راحت قلبِ حزیں کا پھر کوئی سامان ہو
حالِ دل جا کر سنائیں سرورِ کونین کو
دردِ الفت مل گیا جس کو مری سرکار کا
بخت والا ہو گیا وہ کیا کرے سکھ چین کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.