جس دل میں بس گئی ہو محبت حضور کی
جس دل میں بس گئی ہو محبت حضور کی
اس دل میں کیسی چاہتیں حور و قصور کی
محشر میں جوں ہی آپ نے کملی میں لے لیا
باقی رہیں نہ کلفتیں یومِ نشور کی
ہیں مؤمنوں کی جان سے بڑھ کر نبی قریب
کیسے کہوں وہ آستاں منزل ہے دور کی
آئے مرے حضور تو سب نفرتیں مٹیں
ہر سمت روشنی ہوئی الفت کے نور کی
سرشار کس قدر درِ اقدس پہ تھے جلیلؔ
کب بھولتی ہیں ساعتیں کیف و سرور کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.