کرتے ہیں تمنائیں حب دار مدینے کی
کرتے ہیں تمنائیں حب دار مدینے کی
مل جائے گلی ان کو سرکار مدینے کی
غم یاد نہیں رہتے جب بھی وہ حسیں یادیں
آتی ہیں تصور میں غمخوار مدینے کی
جس سمت مدینے میں اٹھی ہے نظر اپنی
ہر چیز لگی دل کو شہکار مدینے کی
یہ ٹھنڈی ہوائیں بھی پُر کیف فضائیں بھی
ہیں عشقِ محمد میں سرشار مدینے کی
ایمان کی خوشبو سے پھر کیوں نہ معطر ہو
مل جائے اگر دل کو مہکار مدینے کی
اے کاش جلیلؔ اپنی پوری یہ تمنا ہو
ہو حاضری قسمت میں سو بار مدینے کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.