محبوب کے قدموں میں اک سیلِ رواں دیکھا
محبوب کے قدموں میں اک سیلِ رواں دیکھا
ہاتھوں میں لیے کاسہ ہر پیر و جواں دیکھا
وہ شہر مدینہ کے پُر نور گلی کوچے
ہم نے تو جدھر دیکھا رحمت کو عیاں دیکھا
جذبات مدینے میں رہتے ہیں کہاں قابو
خود رفتہ نظر آیا جس کو بھی جہاں دیکھا
سرکار! غلاموں کو خیرات عطا کر دیں
مایوس نہیں لوٹا آیا جو یہاں دیکھا
اس عاجز و بے کس کو پھر اذنِ حضوری ہو
جو لطف یہاں پایا دنیا میں کہاں دیکھا
عشاق چلے جس دم سرکار کے روضے سے
آنکھوں میں جھڑی دیکھی دل گریہ کناں دیکھا
اک حشر ہوا برپا اک ہوک اٹھی دل میں
جب گنبدِ خضریٰ کو نظروں سے نہاں دیکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.