Font by Mehr Nastaliq Web

محبوب کے قدموں میں اک سیلِ رواں دیکھا

حافظ عبدالجلیل

محبوب کے قدموں میں اک سیلِ رواں دیکھا

حافظ عبدالجلیل

MORE BYحافظ عبدالجلیل

    محبوب کے قدموں میں اک سیلِ رواں دیکھا

    ہاتھوں میں لیے کاسہ ہر پیر و جواں دیکھا

    وہ شہر مدینہ کے پُر نور گلی کوچے

    ہم نے تو جدھر دیکھا رحمت کو عیاں دیکھا

    جذبات مدینے میں رہتے ہیں کہاں قابو

    خود رفتہ نظر آیا جس کو بھی جہاں دیکھا

    سرکار! غلاموں کو خیرات عطا کر دیں

    مایوس نہیں لوٹا آیا جو یہاں دیکھا

    اس عاجز و بے کس کو پھر اذنِ حضوری ہو

    جو لطف یہاں پایا دنیا میں کہاں دیکھا

    عشاق چلے جس دم سرکار کے روضے سے

    آنکھوں میں جھڑی دیکھی دل گریہ کناں دیکھا

    اک حشر ہوا برپا اک ہوک اٹھی دل میں

    جب گنبدِ خضریٰ کو نظروں سے نہاں دیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے