Font by Mehr Nastaliq Web

ہو چکا تھا فیصلہ یہ کا تبِ تقدیر کا

حافظ عبدالجلیل

ہو چکا تھا فیصلہ یہ کا تبِ تقدیر کا

حافظ عبدالجلیل

MORE BYحافظ عبدالجلیل

    ہو چکا تھا فیصلہ یہ کا تبِ تقدیر کا

    کربلا کی ریت ہو گی اور لہو شبیر کا

    سایۂ دستِ اجل بھی سا تھ ہی جاتا رہا

    وار جاتا جس طرف بھی حیدری شمشیر کا

    تھام کر اپنا کلیجہ اشقیا بھی رہ گئے

    جب بنا اصغر نشانہ حرملہ کے تیر کا

    کربلا کی شام تھی اور عابدِ بیما ر تھے

    بڑھ رہا تھا بوجھ ان کے پاؤں میں زنجیر کا

    حر ریاحی کی پشیمانی بھی کام آہی گئی

    مل گیا اس کو بھی حصہ خلد کی جا گیر کا

    جراتِ شیرِ خدا کی یاد تازہ ہو گئی

    کربلا میں دیکھ کر وہ حوصلہ شبیر کا

    زندۂ جاوید ہے نامِ شہیدِ کربلا

    مٹ گیا ہر لفظ جور و ظلم کی تحریر کا

    اک سراپا بس گیا ہے آنکھ میں میری جلیلؔ

    مصطفیٰ کے لاڈلے کے حسن کی تنویر کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے