اے میرے مولیٰ تری دہائی تو میری توبہ قبول کر لے
اے میرے مولیٰ تری دہائی تو میری توبہ قبول کر لے
ہے تیری محتاج کل خدائی تو میری توبہ قبول کر لے
شباب لہو و لعب میں گزرا تو اب بڑھاپے میں ہوں پریشاں
کہ عمر ساری یوں ہی گنوائی تو میری توبہ قبول کر لے
کہ حرص دنیا میں عمر بیتی سو تیرے در سے رہا تغافل
یہ دنیا داری نہ کام آئی تو میری توبہ قبول کر لے
ترا کرم ہو نبی کی پہچاں لحد کی منزل بھی ہوگی آساں
وگرنہ دکھتی ہے گہری کھائی تو میری توبہ قبول کر لے
یہ تیرے محبوب کی محبت انہی کی مدحت میں عمر بیتی
ہے زندگی کی یہی کمائی تو میری توبہ قبول کر لے
طفیل اپنے نبی کے مولیٰ کرم ہو مجھ پر کہ اس سے پہلے
بدن سے ہو روح کی جدائی تو میری توبہ قبول کر لے
جلیلؔ کا تو سوا نبی کے مرِے خدا آسرا نہیں ہے
انہی کے صدقے میں دے رہائی تو میری توبہ قبول کر لے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.