یہ کعبہ سے ندا آئی ادھر دیکھو ولی آیا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
یہ کعبہ سے ندا آئی ادھر دیکھو ولی آیا
ہوا چرچہ زمانے میں علی آیا علی آیا
جو اس دم بھی نمازی تھا نہ تھا حکمِ نماز اترا
جو دیکھا اس علی کو تو شعورِ بندگی آیا
مہاجر اور انصاری بنے بھائی سبھی باہم
مگر تجھ کو مبارک ہو کہ تو بن کر اخی آیا
بڑا تھا زعم مرحب کو نہیں کوئی شجیع ایسا
مچی تھی کھلبلی ہر سو مقابل جب علی آیا
رسائی علمِ سرور تک درِ حیدر سے ممکن ہے
سو اس در سے جو گزرا ہے اسے علمِ نبی آیا
جسے ناقابلِ تسخیر سمجھے تھے مکیں اس کے
وہ خیبر بھی لرزتا تھا کہ ڈھانے کو علی آیا
ہوا محبوب ہر اک کا کہا جس نے علی مولیٰ
وہی رسوا ہوا ہر جا مقابل جو شقی آیا
کہ اولادِ علی نے ہی صنم توڑے زمانے کے
بتوں کو توڑنے پہلے نبی آئے علی آیا
لکھی ماہِ رجب کی تیرہویں تاریخ ہے دل پر
جلیلؔ اس روز دنیا میں مرا پیارا علی آیا
- کتاب : مشک مدحت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.