آئے مرے حضور تو منظر بدل گئے
آئے مرے حضور تو منظر بدل گئے
احوال سارے دہر کے یکسر بدل گئے
توڑے بتان فخر و مباہات آپ نے
پیمانہ ہائے اسود و احمر بدل گئے
بوبکر و عمر و حیدر و عثمان ہی نہیں
بس اک نگاہِ ناز میں لشکر بدل گئے
جو بھی مرے کریم کی صحبت میں آ گئے
دیکھا یہی ہے ان کے مقدر بدل گئے
سارا کرم ہے صدقۂ نعلینِ مصطفیٰ
بیکس جلیلؔ کے جو مقدر بدل گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.