Font by Mehr Nastaliq Web

اس کی طرف ہوا جو اشارہ علی کا ہے

حافظ عبدالجلیل

اس کی طرف ہوا جو اشارہ علی کا ہے

حافظ عبدالجلیل

MORE BYحافظ عبدالجلیل

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)

    اس کی طرف ہوا جو اشارہ علی کا ہے

    خیبر لرز رہا ہے کہ نعرہ علی کا ہے

    ایمان کی نظر سے ہی آئے گا یہ نظر

    منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے

    جنت کی آرزو ہے پھر آلِ نبی سے بغض

    جنت کا یہ نظام تو سارا علی کا ہے

    نوکِ سناں پہ چڑھ کے جو کرتا رہا کلام

    زہرا کا لال راج دلارا علی کا ہے

    میرے وطن کے دشمنوں باور رہے تمہیں

    پرچم پہ اس کے چاند ستارا علی کا ہے

    مشکل خدا گواہ ہے مشکل نہیں رہی

    مشکل میں جب بھی نام پکارا علی کا ہے

    اصحاب کی توقیر کا جس کو رہا خیال

    بس جان لو وہ شخص ہی پیارا علی کا ہے

    مرحب سے جا کے پوچھیے بتلائے گا تمہیں

    رسوا ہے جگ میں آج بھی مارا علی کا ہے

    گرداب میں جلیلؔ تو ڈرتا ہے کس لیے

    دریا ہے مؤجزن تو کنارہ علی کا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : رختِ بخشش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے