اس کی طرف ہوا جو اشارہ علی کا ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
اس کی طرف ہوا جو اشارہ علی کا ہے
خیبر لرز رہا ہے کہ نعرہ علی کا ہے
ایمان کی نظر سے ہی آئے گا یہ نظر
منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
جنت کی آرزو ہے پھر آلِ نبی سے بغض
جنت کا یہ نظام تو سارا علی کا ہے
نوکِ سناں پہ چڑھ کے جو کرتا رہا کلام
زہرا کا لال راج دلارا علی کا ہے
میرے وطن کے دشمنوں باور رہے تمہیں
پرچم پہ اس کے چاند ستارا علی کا ہے
مشکل خدا گواہ ہے مشکل نہیں رہی
مشکل میں جب بھی نام پکارا علی کا ہے
اصحاب کی توقیر کا جس کو رہا خیال
بس جان لو وہ شخص ہی پیارا علی کا ہے
مرحب سے جا کے پوچھیے بتلائے گا تمہیں
رسوا ہے جگ میں آج بھی مارا علی کا ہے
گرداب میں جلیلؔ تو ڈرتا ہے کس لیے
دریا ہے مؤجزن تو کنارہ علی کا ہے
- کتاب : رختِ بخشش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.