درونِ کعبہ ہوا ہے لوگو ظہور جس کا علی علی ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
درونِ کعبہ ہوا ہے لوگو ظہور جس کا علی علی ہے
جو آنکھ کھولی تو سب سے پہلے نبی کو دیکھا علی علی ہے
ہے شہرِ علمِ نبی کا رستہ درِ علی سے جو ہو کے گزرے
تبھی تو علمِ نبی کے پیاسوں کے لب پہ نعرہ علی علی ہے
نبی نے حیدر کا ہاتھ تھامے غدیرِ خم پر جو کہہ دیا تھا
کہ جس بھی مؤمن کا میں ہوں مولیٰ اسی کا مولیٰ علی علی ہے
وہ رات ہجرت کی پُر خطر تھی کہ ہر طرف تھا عدو کا پہرا
اجل کی آنکھوں میں آنکھ ڈالے سکوں سے لیٹا علی علی ہے
نظامِ فطرت بدل گیا تھا جو عصر ان کی قضا ہوئی تھی
کہ جن کی خاطر وہ ڈوبا سورج پلٹ کے آیا علی علی ہے
ہر اک صحابی کو دوسرے کا بنایا بھائی مرے نبی نے
تو دوجہاں میں اگر کسی کو اخی بنایا علی علی ہے
نہ توڑ پایا تھا جس کو لشکر جہاں نے دیکھا وہ بابِ خیبر
وہ ایک پنجے کے زور سے ہی اکھاڑ پھینکا علی علی ہے
غرور و نخوت میں ڈوبا مرحب جو آ گیا تھا ترے مقابل
وہ جس نے اس پُر غرور کا سب غرور توڑا علی علی ہے
مراتب ان کے جلیلؔ اپنی سمجھ میں آئیں تو کیسے آئیں
نبیٔ رحمت کی شفقتوں نے جنہیں ہے پالا علی علی ہے
- کتاب : رختِ بخشش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.