اے امیرِ حرم اے شفیعِ امم بے سہاروں پہ اپنی نظر کیجیے
اے امیرِ حرم اے شفیعِ امم بے سہاروں پہ اپنی نظر کیجیے
جرم عصیاں میں آقا سزاوار ہیں درگزر کیجیے در گزر کیجیے
آپ ہیں اپنے خالق کے محبوب بھی اس گنہگار امت کے مطلوب بھی
کب سے نیّا ہماری ہے گرداب میں اب کرم شاہِ جن و بشر کیجیے
وقت کا بو لہب جب بھی کھولے زباں وہ جہاں میں نہ پائے کہیں بھی اماں
جو بھی گستاخ ہے میری سرکار کا اس کو واصل بہ نارِ سقر کیجیے
عاصیو تھام لو دامنِ مصطفیٰ ہے انہی کی رضا میں خدا کی رضا
زندگی ان کی طاعت میں کیجیے بسر ان کی طاعت کو زادِ سفر کیجیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.