کروں میں شکر کس منہ سے ترے الطاف بے حد کا
دلچسپ معلومات
کرے گا اور کوئی وصف کیا نورِ محمد کا
کروں میں شکر کس منہ سے ترے الطاف بے حد کا
بنا کر امتی بھیجا مجھے تو نے محمد کا
ضیائے مہر و مہ سے ہوگیا ثابت زمانہ کو
پڑا ہے پرتوا ان پر رخ پُر نورِ احمد کا
پتہ چلتا ہے قرآنِ مبارک کی عبارت سے
ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انورِ محمد کا
مئے عشق نبی کا جام پی لینا نہیں آساں
جنابِ شیخ یہ تو کام ہے شیدائے احمد کا
خدا نے یہ شرف بخشا ہے ان کے ہی غلاموں کو
کہ سلطانوں کا ہے سلطان ہر بردہ محمد کا
فقط اک بوریا کافی ہے پڑ رہنے کو اے حافظؔ
یہی وقتِ ضرورت کام دے گا ہم کو مسند کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.