مدینے کی زمیں کتنی حسیں معلوم ہوتی ہے
مدینے کی زمیں کتنی حسیں معلوم ہوتی ہے
کہ سب کو روکش خلد بریں معلوم ہوتی ہے
مجھے کیا خوف ہو روز قیامت کا مری جانب
نگاہ رحمتہ اللعالمیں معلوم ہوتی ہے
ہمیں آرام گاہ سید لولاک کے در پر
خمیدہ عرش اعظم کی جبیں معلوم ہوتی ہے
مدینہ جس نے دیکھا بول اٹھا فرط حیرت سے
یہ بستی صبط روح الامیں معلوم ہوتی ہے
دل خوں گشتہ اک جنت کدہ معلوم ہوتا ہے
کہ اس میں حب احمد جاگزیں معلوم ہوتی ہے
جو ہے کوئے نبی کی خا ک کے ذروں میں مابانی
چمک خورشید میں ایسی کہیں معلوم ہوتی ہے
ختن میں مشک جو اترا رہی ہے اپنی خوشبو پر
وہ زلف مصطفیٰ کی خوشہ چیں معلوم ہوتی ہے
منور ہوگیا سارا جہاں انوار احمد سے
یہ ہستی مظہر نور مبیں معلوم ہوتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.