ہم سوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ
ہم سوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ
قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ
مدحت خواجہ دیں مدحت سرکار کے ساتھ
زندگی گزری ہے کیفیت سرشار کے ساتھ
میں بھی وابستہ ہوں سرکار کے دربار کے ساتھ
خاک کا ذرہ بھی ہے عالم انوار کے ساتھ
رہ گئے منزل سدرہ پہ پہنچ کر جبریل
چل نہیں سکتا فرشتہ تری رفتار کے ساتھ
بخت بیدار ہے یاور ہے مقدر اس کا
جس نے دیکھا ہے انہیں دیدۂ بیدار کے ساتھ
یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ
کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ
مل ہی جائے گاکوئی خوان کرم کا ٹکڑا
ہے تعلق جو سگان در سرکار کے ساتھ
اے خدا دی ہے اگر نعت نبی کی توفیق
حسن کردار بھی دے لذت گفتار کے ساتھ
جب کھلے حشر میں گیسوئے شفاعت ان کے
ہم سے عاصی بھی نظر آئیں گے ابرار کے ساتھ
میں یہ کہتا ہوں کہ تھا ان کی نظر کا اعجاز
لوگ کہتے ہیں کہ دیں پھیلا ہے تلوار کے ساتھ
ایسا حج زحمت بے جا کے سوا کچھ بھی نہیں
عشق محکم نہ ہو گر احمد مختار کے ساتھ
شہر یثرب کا مسافر نہیں رہ میں تنہا
کارواں شوق کا ہے طالب دیدار کے ساتھ
گر مدینے کا تصور ہو تو ظلمت کیسی
ربط مضبوط رہے عالم انوار کے ساتھ
یہ نہ ہوتا تو نہ بچ سکتے تجلی سے کلیم
نور حضرت کا بھی تھا طو رکے انوار کے ساتھ
ان کے جلوؤں نے کیا کون و مکاں کو روشن
حسن یوسف کا رہا مصر کے بازار کے ساتھ
پل سے مجھ سا بھی گنہگار گزر جائے گا
ہو گی سرکار کی رحمت جو گنہگار کے ساتھ
رات دن بھیج سلام ان پہ ملائک کی طرح
پڑھ درود ان پہ غلامان وفادار کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.