نور حضرت کاجو طیبہ کے نظاروں میں نہ تھا
نور حضرت کاجو طیبہ کے نظاروں میں نہ تھا
رنگ پھولوں میں نہ تھا کیف بہاروں میں نہ تھا
جب مدینہ نہ بنا تھا شہِ دیں کی منزل
عشق سرگرم سفر راہ گزاروں میں نہ تھا
فقر خودار تھا سرمایہ اصحاب رسول
طالب زر کوئی سرکار کے پیاروں میں نہ تھا
ایک تھی ان کی لگن ایک تھا ان کا مقصود
فرق کچھ سرور کونین کے یاروں میں نہ تھا
میرے خواجہ نے کیا غاروں کا سینہ روشن
ورنہ یوں چاند کا مسکن کبھی غاروں میں نہ تھا
اسی مضمون کو امی نے کیا ہم پہ عیاں
قابل فہم جو قرآن کے پاروں میں نہ تھا
اے رسول عربی رزم حق و باطل میں
کوئی بے کیف ترے سینہ فگاروں میں نہ تھا
نعت گوئی و ثنا خوانی شہ سے پہلے
یہ اثر میرے کنایوں میں اشاروں میں نہ تھا
شکر للہ کہ مظہرؔ سے سنی نعت نبی
ایسا خوش لہجہ ثنا خواں کوئی یاروں میں نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.