Font by Mehr Nastaliq Web

نور حضرت کاجو طیبہ کے نظاروں میں نہ تھا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

نور حضرت کاجو طیبہ کے نظاروں میں نہ تھا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    نور حضرت کاجو طیبہ کے نظاروں میں نہ تھا

    رنگ پھولوں میں نہ تھا کیف بہاروں میں نہ تھا

    جب مدینہ نہ بنا تھا شہِ دیں کی منزل

    عشق سرگرم سفر راہ گزاروں میں نہ تھا

    فقر خودار تھا سرمایہ اصحاب رسول

    طالب زر کوئی سرکار کے پیاروں میں نہ تھا

    ایک تھی ان کی لگن ایک تھا ان کا مقصود

    فرق کچھ سرور کونین کے یاروں میں نہ تھا

    میرے خواجہ نے کیا غاروں کا سینہ روشن

    ورنہ یوں چاند کا مسکن کبھی غاروں میں نہ تھا

    اسی مضمون کو امی نے کیا ہم پہ عیاں

    قابل فہم جو قرآن کے پاروں میں نہ تھا

    اے رسول عربی رزم حق و باطل میں

    کوئی بے کیف ترے سینہ فگاروں میں نہ تھا

    نعت گوئی و ثنا خوانی شہ سے پہلے

    یہ اثر میرے کنایوں میں اشاروں میں نہ تھا

    شکر للہ کہ مظہرؔ سے سنی نعت نبی

    ایسا خوش لہجہ ثنا خواں کوئی یاروں میں نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے