آو کہ ذکر حسن شہ بحر و بر کریں
آو کہ ذکر حسن شہ بحر و بر کریں
جلوے بکھیر دیں شب غم کی سحر کریں
جو حسن میرے پیش نظر ہے اگر اسے
جلوے بھی دیکھ لیں تو طواف نظر کریں
وہ چاہیں تو صدف کو در بے بہا ملے
وہ چاہیں تو خزف کو حریف گہر کریں
فرمائیں تو طلو ع ہو مغرب سے آفتاب
چاہیں تو اک اشارے سے شق قمر کریں
راہ نبی میں غیر پہ تکیہ حرام ہے
اے عشق آ کہ بے سر و ساماں سفر کریں
کو نین وجد میں ہوں جنوں نغمہ بار ہو
یعنی جہانِ ہوش کو زیر و زبر کریں
آنسو قبول ہوں در خیرالانام پر
نالے طواف روضہ خیرالبشر کریں
شعر و ادب بھی آہ و فغاں بھی ہے ان کا فیض
پیشِ حضور اپنی متاع ہنر کریں
اب کے جو قصد طیبہ کریں رہر وان شوق
مظہرؔ کو بھی ضرور شریک سفر کریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.