Font by Mehr Nastaliq Web

جہاں ذکر نبی پیہم نہیں ہے

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

جہاں ذکر نبی پیہم نہیں ہے

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    جہاں ذکر نبی پیہم نہیں ہے

    وہاں انوار کا عالم نہیں ہے

    تمنائے حرم بھی کم نہیں ہے

    ابھی لو عشق کی مدھم نہیں ہے

    کہاں اس آنکھ میں نور تجلی

    جو یاد مصطفیٰ میں نم نہیں ہے

    رسولان خدا میں ان کی مانند

    کوئی اعظم کوئی اکرم نہیں ہے

    نبی سے گر نہیں ربط مسلسل

    خدا سے ربط بھی محکم نہیں ہے

    بہ یاد شاہِ دیں آنکھیں ہیں پر نم

    یہ بخشش یہ عنایت کم نہیں ہے

    جو سر جھکتا ہے ان کے آستاں پر

    کسی سلطاں کے آگے خم نہیں ہے

    ملا ہے جب سے ذوق نعت گوئی

    میر ا عالم میرا عالم نہیں ہے

    مئے حب نبی کا پینے والا

    اسیر عشق جام جم نہیں ہے

    تعالیٰ اللہ بہ فیض مدح خواجہ

    کہ اب بیکار کوئی دم نہیں ہے

    بجز دین متیں کے اور کچھ بھی

    علاج شورش عالم نہیں ہے

    خرد پر رکھ نہ عشق شہ کی بنیاد

    کہ بنیاد خرد محکم نہیں ہے

    ہیں قرآں میں اشارے مدح شہ کے

    اشارہ کوئی بھی مبہم نہیں ہے

    وہاں شان کرم دیکھوں گا مظہرؔ

    مجھے روز جزا کا غم نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے