Font by Mehr Nastaliq Web

جب ورد زباں نام ہو محبوب خدا کا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

جب ورد زباں نام ہو محبوب خدا کا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    جب ورد زباں نام ہو محبوب خدا کا

    سمجھو کہ یہ ہنگام ہے مقبول دعا کا

    ہے لطف ترے در پہ فقیرانہ صدا کا

    ہے تیرا ہی در ملجا و ماویٰ غربا کا

    اللہ غنی مرتبہ حضرت کی ثنا کا

    حسان کو بخشا گیا انعام ردا کا

    یہ اجر ملے مجھ کو تری مدح و ثنا کا

    دل ورد کرے شام و سحر صل علیٰ کا

    اب میری نظر میں رہے یہ نور خدا کا

    شیدا ہوں مدینے کی دل افروز فضا کا

    دنیا کہ نہ تھی واقف عرفان الہٰی

    دنیا کو ملا آپ سے عرفان خدا کا

    ہیں شمس و قمر بھی تیرے جلوؤں سے ضیا گیر

    تو چاند ہے اے میر عرب غار حرا کا

    جاں بخش تھا اعجاز لب عیسیٰ مریم

    ہے معجزہ قرآن مبیں شاہ ہدیٰ کا

    قرباں ترے انوار کے اے باغ مدینہ

    جھونکا کوئی مجھ کو بھی عنایت ہو ہوا کا

    میں چاہتا ہوں نعت کی کیفیت دائم

    میں مانگتا ہوں شاہ امم سوز نوا کا

    ہے دست کرم میں ترے کونین کی نعمت

    قبضے میں خزینہ ہے ترے ہر دوسرا کا

    تو شافع محشر بھی ہے محبوب خدا بھی

    ہے فیصلہ ہاتھوں میں ترے روز جزا کا

    یثرب میں جو ناساز ہوئی طبع صحابہ

    خواجہ نے بدل ڈالا نظام آب و ہوا کا

    مظہرؔ کی فقیری میں بھی ہے شان غنا کی

    شاہانہ ہے انداز محمد کے گدا کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے