بام و در شہر طیبہ پر رحمت دن رات برستی ہے
بام و در شہر طیبہ پر رحمت دن رات برستی ہے
یہ سرور دیں کا مسکن ہے یہ شاہ امم کی بستی ہے
اب ہر لحظہ ہے یاد تیری اب ہر دم آنکھ برستی ہے
اے خواجۂ عالم چشم کرم جلوؤں کو روح ترستی ہے
او کوئے نبی کے دیوانے اسباب و علل پر غور نہ کر
اسباب و علل کے سودائی یہ بھی ادہام پرستی ہے
ہم مستان حضرت کے سوا سمجھا ہے نہ سمجھے گا کوئی
جو ان کے ذکر میں نشہ ہے جو ان کے نام میں مستی ہے
سرتا بقدم اے نور و ضیا تیرے ہر فروغ جلوہ سے
ضو بار فضائے عالم ہے روشن ایوان ہستی ہے
دو اشک ندامت کے بدلے نایاب خزینے ملتے ہیں
یثرب میں بخشش ارزاں ہے طیبہ میں رحمت سستی ہے
خاک در شہ ہے خاک شفا ناداں اسے مٹی تو سمجھا
یہ ذوق نگہ کی خامی ہے یہ فکر و نظر کی پستی ہے
اے صل علیٰ وہ باب کرم وہ روضۂ اطہر کا عالم
جب ان کا حرم یاد آتا ہے تنہائی دل کو ڈستی ہے
مظہرؔ میرے شعروں کی دنیا رنگین اسی کے نور سے ہے
جو ذات کہ ہے محبوب خدا جو ذات کے دل میں بستی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.