Font by Mehr Nastaliq Web

ہوتی ہے بہ یاد شہ دیں طبع رواں اور

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

ہوتی ہے بہ یاد شہ دیں طبع رواں اور

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    ہوتی ہے بہ یاد شہ دیں طبع رواں اور

    ہے میرے گلستاں کی بہار اور خزاں اور

    مطلوب ہے اب بھی مجھے کیف دل و جاں اور

    مصروف رہے شاہ کی مدحت میں زباں اور

    لکھنی ہے مجھے مدح شہ کون و مکاں اور

    یارب ہو عطا قوت اظہار و بیاں اور

    تسلیم کہ رنگیں ہیں بہت طور کے جلوے

    لیکن ہے مدینے کا دل افروز سماں اور

    جز فخر رسل کوئی نہیں رحمت عالم

    جز میر عرب کوئی نہیں شاہ شہاں اور

    کیا بزم جہاں نور نبی سے نہیں روشن

    کیا شمس و قمر میں ہے کوئی جلوہ فشاں اور

    جاں بخش و سکوں بار ہیں طیبہ کی فضائیں

    اس دیس کی مانند نہیں کوئی جہاں اور

    کیا غم جو مجھے چھوڑ گئے قافلے والے

    اک قافلہ طیبہ کی طرف ہوگا رواں اور

    جب مانگا ہے داتا سے سکوں اور ملا ہے

    جب چاہی ہے سرکار سے پائی ہے اماں اور

    لکھتا ہوں جو توصیف و ثنائے شہ والا

    ہوتا ہے مرے سامنے جلوؤں کا جہاں اور

    ملتی نہیں ہر دل کو تمنائے مدینہ

    مانگوں گا در شاہ سے یہ جنس گراں اور

    مکے سے فزوں شہر مدینہ کا شرف ہے

    یہ قبلہ دل اور ہے یہ کعبہ جاں اور

    صد شکر کہ مداح رسولِ عربی ہوں

    مجھ کو نہیں منظور کوئی نام و نشان اور

    یہ نعت کے اسرار کبھی ختم نہ ہوں گے

    ہیں سینہ مظہرؔ میں کئی راز نہاں اور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے