یہ دوری و مہجوری تا چند مدینے سے
یہ دوری و مہجوری تا چند مدینے سے
اے جلوۂ رعنائی لگ جا مرے سینے سے
یہ لذت پیہم بھی بخشش ہے مدینے کی
انوار مدینے کے لایا ہوں مدینے سے
امید کرم لے کر اترا ہوں سفینے سے
اک بر چلا ہوں پھر کعبے کو مدینے سے
ہر گام پہ دو سجدے شائستہ قرینے سے
آواز اذاں آئی کانوں میں مدینے سے
آ مانگ محبت کا اک داغ مدینے سے
ملتا نہیں یہ موتی شاہوں کے خزینے سے
جبریل نے پایا تھا وہ سینہ حضرت سے
جو نور کہ ملتا ہے جبریل کے سینے سے
اب میری لحد میں بھی خوشبوئے مدینہ ہے
میں خاک شفا اک دن لایا تھا مدینے سے
اے مطرب خوش لہجہ اب بول قرینے سے
نسبت مری قائم ہے مکے سے مدینے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.