جب تک جمال شاہ امم جلوہ گر نہ تھا
جب تک جمال شاہ امم جلوہ گر نہ تھا
عالم تمام مطلع شمس و قمر نہ تھا
گھر تھا منات و لات کا اللہ کا گھر نہ تھا
جب کعبہ جلوہ گاہ شہ بحر و بر نہ تھا
تنہا گئے حضور حریم جمال تک
جبریل لامکاں میں شریک سفر نہ تھا
دیکھا خدائے پاک کو حضرت نے بے حجاب
ہنگام دید کوئی حجاب نظر نہ تھا
اس وقت بھی تھے فخر رسل سیدالبشر
جب محفل جہاں میں وجود بشر نہ تھا
آتے ہیں اب بھی بہر سلامی ملائکہ
صرف ایک جبریل ہی مشتاق ور نہ تھا
آدم کی جب زباں پہ نہ تھا شاہ دیں کا نام
نالے نہ تھے قبول دعا میں اثر نہ تھا
ٹھہرے نہ اہل ذوق کبھی اس مقام پر
جو مرکز نگاہ تیری رہ گزر نہ تھا
تو نے شعور ذات دیا ورنہ اے کریم
کوئی خدا شناس کوئی دیدہ ور نہ تھا
جب تک نہ خاک بوس دیارِ حبیب تھی
کیف آفریں خرام نسیم سحر نہ تھا
میں تازہ نعت لے کے مدینے پہنچ گیا
شاہان دہر کے لیے میرا ہنر نہ تھا
گھر سے چلا تو شہ نے نوازا قدم قدم
کب میں رہ حجاز میں با چشم تر نہ تھا
بالائے عرش حسن تجلی تھا آشکار
جو جلوہ لامکاں میں تھا وہ طور پر نہ تھا
مظہرؔ تھا گرچہ خستہ دل و ناتواں مگر
ناکام بارگاہ نبی کا سفر نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.