راحت جاں ہے خیال شہ مکی مدنی
راحت جاں ہے خیال شہ مکی مدنی
مرحبا حسن و جمال شہ مکی مدنی
اے خدا صدقہ آل شہ مکی مدنی
کر عطا سوز بلال شہ مکی مدنی
با ادب قبر میں آئیں گے فرشتے مرے پاس
میں کہ ہوں محو خیال شہ مکی مدنی
لی مع اللہ سے واقف نہیں جبریل امیں
کیا بشر سمجھے گا حال شہ مکی مدنی
بخشوانے کے لیے ہم سے گنہگاروں کو
حشر میں ہوگا سوال شہ مکی مدنی
کیا بنائی ہے خدا نے شہ دیں کی صورت
کیا حسیں ہیں خد و خال شہ مکی مدنی
چاہتے ہیں کہ رہیں عشق نبی میں سرشار
ہم غلامان بلال شہ مکی مدنی
گفتہ احمد مختار خدا کا ہے کلام
وحی یزداں ہے مقال شہ مکی مدنی
کس کو جز صاحب معراج ملا ہے یہ مقام
عرش ہے زیر نعال شہ مکی مدنی
عرش و کرسی پہ بھی تھا وجد کا عالم طاری
جب ہوا حق سے وصال شہ مکی مدنی
میں تو کیا چشم ملائک نہ کبھی دیکھ سکی
کوئی انسان مثال شہ مکی مدنی
بخش دے گا مرے عصیاں کو قیامت میں خدا
دیکھ کر رنج و ملال شہ مکی مدنی
کیوں نہ سب کے لیے منشور ہدایت بنتے
ایسے پاکیزہ خصال شہ مکی مدنی
بس یہی ایک تمنائے دلی ہے مظہرؔ
عمر گزرے بخیال شہ مکی مدنی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.