دل فدائے سید ابرار ہے
دل فدائے سید ابرار ہے
جاں نثار احمد مختار ہے
جب سے لب پر مدحت سرکار ہے
میرا عالم عالم انوار ہے
مرحبا عشق محمد کے مزے
دل بھی خوش ہے روح بھی سرشار ہے
قبلہ دل ہے در خیرالانام
کعبہ جاں روضہ سرکار ہے
ہو نہ جس میں رنگ عشق شاہ کا
وہ عبادت وہ عمل بیکار ہے
خلق کا مقصود عالم کی مراد
سرور کونین کا دربار ہے
کوچہ کوچہ ہے مدینے کا بہشت
ذرہ ذرہ گوہر شہوار ہے
اے خدا دے شہر طیبہ میں جگہ
روح کو آسودگی درکار ہے
واقف اسرار علام الغیوب
ایک امی محرم اسرار ہے
ان کی چشم لطف سے مٹ جائے گا
جو بھی درد و غم ہے جو آزار ہے
یہ شرف کافی ہے مظہرؔ کے لیے
نعت گو ہے شاعر دربار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.