کب مرا دل تھا بے حضور کب میری آنکھ تر نہ تھی
کب مرا دل تھا بے حضور کب میری آنکھ تر نہ تھی
حافظ مظہرالدین مظہرؔ
MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ
کب مرا دل تھا بے حضور کب میری آنکھ تر نہ تھی
بندہ نواز کی نظر کب مرے حال پر نہ تھی
جز در سیدالوریٰ میری کہیں نظر نہ تھی
یعنی مریض عشق کو حاجتِ چارہ گر نہ تھی
چھایا تھا وجد و حال سا اپنی بھی کچھ خبر نہ تھی
بارگہِ جمال میں فرصت یک نظر نہ تھی
ہوش و خرد کی انجمن عشق سے بہرہ ور نہ تھی
کوئی بھی دل حزیں نہ تھا کوئی بھی آنکھ تر نہ تھی
عقل فریب خوردہ کو اتنی بھی تو خبر نہ تھی
جس میں نہ تھا ترا جمال وہ تری رہ گذر نہ تھی
عشق حبیب کبریا سوئے مدینہ لے اڑا
شکر خدا مجھے نصیب قوت بال و پر نہ تھی
جب تیرے حسن سے نہ تھا عشق کا یہ معاملہ
میری وہ شام تھی نہ شام میری سحر سحر نہ تھی
پیشِ حضور درد دل کچھ بھی بیان نہ ہوسکا
در نہ مری حدیث غم اتنی بھی مخصر نہ تھی
منصب مدح مصطفیٰ صبحِ ازل مجھے ملا
میرے لیے تو کوئی شے نعت سے خوب تر نہ تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.