راہ طیبہ میں مرے دل کی لگی کام آگئی
راہ طیبہ میں مرے دل کی لگی کام آگئی
نالہ بھی کام آگیا فریاد بھی کام آگئی
بے کسی کام آگئی آزردگی کام آگئی
غم کے طوفانوں میں رحمت آپ کی کام آگئی
میں بایں اندوہ دغم عشق نبی میں شاد ہوں
ہوش والو مجھ کو تو دیوانگی کام آگئی
اب تصور میں فروزاں ہے مدینے کا جمال
شکرِ ایزد میری بے بال و پری کام آگئی
زیست کی راہوں میں ظلمت کے سوا کچھ بھی نہ تھا
اَے عرب کے چاند تیری چاندنی کام آگئی
بے خودی شوق میں لب پر ہے نغمہ نعت کا
مژدہ باد اے دل کہ تیری بے خودی کام آگئی
بے محابا لب پہ نام شاہ دیں آنے لگا
حد سے گذری تو مری آشفتگی کام آگئی
نعت سن کر رحمت یزداں کو بھی وجد آ گیا
ان کے صدقے حشر کے دن نعت ہی کام آگئی
کاش مظہرؔ ہم بھی روضے پر پہنچ کر یہ کہیں
آج دل ٹھنڈا ہوا دل کی لگی کام آگئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.